ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتر پردیش اور کرناٹک کےاسپتالوں نے نہیں دی ایمبولینس ،باپ اپنے بیٹوں کی لاش کو کندھے پر رکھ کر بائک کے ذریعے لے جانے پر مجبور

اتر پردیش اور کرناٹک کےاسپتالوں نے نہیں دی ایمبولینس ،باپ اپنے بیٹوں کی لاش کو کندھے پر رکھ کر بائک کے ذریعے لے جانے پر مجبور

Wed, 03 May 2017 12:17:37    S.O. News Service

اٹاوہ ، 2؍مئی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )یوپی کے اٹاوہ کے ضلعی اسپتا ل میں ایک 45سالہ باپ کو اپنے 15 سالہ بیٹے کی لاش کو اپنے کندھے پر رکھ کر لے جانے پر مجبور ہونا پڑا، کیونکہ اسپتا ل نے لاش کو گھر لے جانے کے لیے ایمبولنس تک مہیا نہیں کرائی۔ادے ویر اپنے بیٹے پشپیندر کا علاج کرانے کے لیے اٹاوہ کے ضلعی اسپتا ل لایا تھا۔ادے ویر کا الزام ہے کہ اسپتا ل میں ڈاکٹروں نے اس کے بیٹے کا علاج نہیں کیا، اس کے بیٹے کے پیروں میں درد تھا، ڈاکٹروں نے اسے بغیر دیکھے ہی مردہ قرار دے دیا اور اس اسپتا ل سے لے جانے کے لیے کہہ دیا۔اس کے بعد باپ اپنے بیٹے کی لاش کو کندھے پر رکھ کر اسپتا ل کے احاطے سے باہر نکل گیا۔ادے و یر کا کہنا ہے کہ وہ دو مرتبہ اپنے بیٹے کو اسپتا ل لے کر آیا تھا۔ادے و یر کا گاؤں اسپتا ل سے سات کلومیٹر دور ہے اس نے بتایا کہ جب ڈاکٹروں نے مایوس کیا اور بیٹے کو مردہ قرار دے کر لے جانے کے لئے کہا تو اپنے بیٹے کی لاش کو کندھے پر رکھ کر باہر آیا، اس کا مکان  سات کلومیٹر دور ہے، اس نے اپنے رشتہ دار کو بلاکر اُس کی بائک پر سوار ہوکر بیٹے کی لاش کو کندھوں پر ہی رکھ کر گھر پہنچا۔

بتایا گیا ہے کہ اُترپردیش کا اٹاوہ سرکاری اسپتال کا شمار ریاست کے بہترین اسپتالوں میں کیا جاتا ہے، مگر ڈاکٹروں کی اس طرح کی لاپرواہی نے اسپتال کی اصلیت ظاہر کردی ہے ۔ لوگ سوال اُٹھارہے ہیں کہ اگر بہترین اسپتالوں میں شمار کئے جانے والے اسپتال کی یہ حالت ہے تو دیگر اسپتالوں میں کیا کچھ ہوتا ہوگا۔

 پشپیندر کے لیے ایمبولینس تک کا بندوبست نہ کئے جانے پر اب سوالات اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ  غریبوں کے لیے مفت فراہم کی جانے والی ایمبولنس آخر استعمال کہاں پر ہوتی ہے۔

جب وہ اسپتا ل سے بیٹے کی لاش کو کندھے پر لے کر باہر نکلا تو کسی نے موبائل پر اس کا ویڈیو بنا لیا جو بعد میں میڈیا کے ہاتھ لگ گئی، ادے و یر بیٹے کے لاش کو موٹر سائیکل سے گھر لے کر گئے، ادے ویر نے کہا کہ کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ میں اپنے بیٹے کی لاش کو گھر لے جانے کے لیے ایمبولنس کا مستحق ہوں یا نہیں۔ واقعے کے تعلق جب میڈیا والوں نے اسپتال کے سی ایم او ڈاکٹر راجیو کمار یادوسے سوال کیا تو ان کا جواب یہی تھا  کہ ملوث  ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اُدھر، ریاست کرناٹک کے انیکل میں بھی کچھ اسی طرح کا واقعہ دو روز قبل پیش آیا جب  ایک باپ کو اپنے بیٹے کی لاش کو دوپہیہ گاڑی پر سوار کرکے گھر لے جانا پڑا۔ بتایا گیا ہے کہ سفن رائے کے 3سالہ بیٹے رحیم کی سڑک حادثے میں موت ہو گئی تھی، نامعلوم گاڑی نے شام کو رحیم کو ٹکر مار دی تھی، جب اسے انیکل کے ایک سرکاری اسپتا ل لے جایا گیا تو وہاں کے ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ اس بات پرتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹر نے اس واقعے کی نہ پولس کو خبر کی، نہ لڑکے کا پوسٹ مارٹم کرنے ضروری سمجھا اور نہ ہی دیگر کوئی کاغذی کاروائی کی، یہاں تک کہ اسپتال کی نرسوں نے بھی لڑکے کے باپ کو نہیں بتایا کہ اُسے اب کیا کرنا ہے۔ رائے نے بتایا کہ اسپتا ل کے عملے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ بعد میں رائے نے اپنے ایک جان پہچان والے شخص کو بلایا اور اس کی دوپہیہ گاڑی سے اپنے بیٹے کی لاش کو گھر لے کر گئے ، گھر لے جانے کے دوران  کسی نے اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنا لیا۔جب مقامی نیو ز چینلوں پر اس معاملہ کو دکھایا جانے لگا ،تب یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔


Share: